1 جون 2026 - 20:54
میناب کے شجرہ طیبہ کے آس پاس حتی کہ پولیس بوتھ بھی نہ تھا، فرانس 24

امریکیوں اور ان کے حامی ذرائع نے کہا تھا کہ صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر میناب میں شجرہ طیبہ پرائمری اسکول ایک فوجی اڈے کے قریب واقع ہؤا تھا اور اسکول غلطی سے دوہرے میزائل حملے کی زد میں آیا لیکن اب فرانس 24 کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ نہ صرف وہاں کوئی فوجی اڈہ نہیں تھا بلکہ انہیں دو کلومیٹر کے ارد گرد کوئی پولیس بوتھ بھی  نظر نہیں آیا۔

بین الاقوامی اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ فرانس 24  کے نامہ نگار نے کہا:

- میں شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر بمباری کے چند روز قبل میناب پہنچا۔

- میں نے اسکول کے گرد دو کلومیٹر تک کے فاصلے کو کئی بار، پیدل چل کر، چھان مارا۔  - میرا مقصد یہ تھا کہ کسی فوجی تنصیب کا سراغ لگا سکوں۔ لیکن

- نہ صرف وہاں کوئی فوجی تنصیب نہیں تھی بلکہ میں نے پولیس بوتھ تک بھی نہیں دیکھا۔

واضح رہے کہ امریکی فوج بھی شجرہ طیبہ اسکول پے حملے کے اس جرم اکے رتکاب کے لئے کوئی کوئی جواز نہیں ڈھونڈ سکی ہے، کچھ جھوٹے ذرائع نے دعویٰلکھا تھا کہ اسکول کے قریب ایک فوجی اڈہ تھا!

یہ جھوٹ اس وقت طشت از بام ہؤا کہ اس بزدلانہ حملے میں حتی ایک بھی فوجی نشانہ نہیں بنا، بلکہ 168 طلبہ و طالبات، اساتذہ اور استانیوں نے جام شہادت نوش کیا۔

البتہ اس جھوٹے دعوے کے متعدد ثبوت اور بھی ہیں جن میں نے ایک پیڈوفائل اور طفل خوار امریکی صدر کا یہ دعویٰ تھا کہ اسکول پر حملہ خود ایرانیوں نے کیا ہے، اس سے کہا گیا کہ اس حملے میں امریکی ٹاماہاک میزائل استعمال ہوئے ہیں، تو بولا کہ ایرانیوں نے خود ٹاماہاک میزائل استعمال کئے ہونگے، اور جب اس سے کہا گیا کہ ٹاماہاک میزائل امریکہ کے سوا کسی کے پاس بھی نہیں ہیں، تو مجرم خونخوار نے بات گول کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha